bilkul sahi..ye bhoot to barhtay he ja rahay hain her ghar main ye bhoot paye jatay hain..aur inn ki zuban b bari ghair qanuni qisam ki hai hehehehehe...
Most Wanted Fun Full Site Best place on internet for bollywood, movie reviews, beautiful picture galleries, cool forwards, Wallpapers, funny videos, playing Fun games, Urdu Poetry and Much More ........!
Showing posts with label Urdu Articles. Show all posts
Showing posts with label Urdu Articles. Show all posts
Wednesday, May 25, 2011
Baaton K Bhoot
Baaton K Bhoot

bilkul sahi..ye bhoot to barhtay he ja rahay hain her ghar main ye bhoot paye jatay hain..aur inn ki zuban b bari ghair qanuni qisam ki hai hehehehehe...
bilkul sahi..ye bhoot to barhtay he ja rahay hain her ghar main ye bhoot paye jatay hain..aur inn ki zuban b bari ghair qanuni qisam ki hai hehehehehe...
Monday, November 15, 2010
Dunia Ki Yeh Reet Purani Hai
Dunia Ki Yeh Reet Purani Hai

Admi Dunia Mein Akela Aata Hai

Dunia Ki Bheerh Mein Akela Hi Reh Jata Hai

Aur Dunia Se Akela Hi Chala Jata Hai

Jesay Gulshan May Koi Phool Khilta Hai

Andhion ki Atay Hi Shakh Se Toot Parta Ta Hai

Phir Pairo Talay kuchalta Hai, Rondta Hai, Masalta Hai



Aur Andhion Ki Jatay Hi Baharon Ka Mosam Ro Parta Hai

Aur Yunhi Roo Roo Ker Fariyad Kerta Hai

Ashkoo Ko Seene Mein Piroota Hai

Her Laakt-e-Jigar Khoon Se Holi Rangta Hai

Phir Mulk, Mulk Qayamet Ka Samah Hota Hai

Aur Gulshan, Gulshan, Gul Jalta Rehta Hai

So mere dosto Rab-ul-Kareem dunia mein apnay pyaro say qadam, qadam per Imtihan Leta hai lekin ham sab hi ko chaiye ki hum apna emaan hamesha mazboot rakhein taki Allah Pak hum per apni azmaish asaan kerdein is Dunia mein aur Akhrat mein hamein kabhi tanha na chorein kyun ki dunia mein zulm hamesha se hi kaim hai, per zulm kerne wala kabhi kaim nahin rehta, ek na ek din to usay apnay buoy huay ka katna parta hai..
Hamein apnay naik amalo se Khuda ko Raazi rakhna chaiye aur sath hi sath Rab-ul-Kareem se Amun ki Dua mangni chaiye, taaki Rab-ul-Kareem hamein apnay Hifz-o-Amaan mein rakhein aur in insaniyat ki dushmano se hamein bacha lein Ameen Sum Ameen.
Admi Dunia Mein Akela Aata Hai
Dunia Ki Bheerh Mein Akela Hi Reh Jata Hai
Aur Dunia Se Akela Hi Chala Jata Hai
Jesay Gulshan May Koi Phool Khilta Hai
Andhion ki Atay Hi Shakh Se Toot Parta Ta Hai
Phir Pairo Talay kuchalta Hai, Rondta Hai, Masalta Hai
Aur Andhion Ki Jatay Hi Baharon Ka Mosam Ro Parta Hai
Aur Yunhi Roo Roo Ker Fariyad Kerta Hai
Ashkoo Ko Seene Mein Piroota Hai
Her Laakt-e-Jigar Khoon Se Holi Rangta Hai
Phir Mulk, Mulk Qayamet Ka Samah Hota Hai
Aur Gulshan, Gulshan, Gul Jalta Rehta Hai
So mere dosto Rab-ul-Kareem dunia mein apnay pyaro say qadam, qadam per Imtihan Leta hai lekin ham sab hi ko chaiye ki hum apna emaan hamesha mazboot rakhein taki Allah Pak hum per apni azmaish asaan kerdein is Dunia mein aur Akhrat mein hamein kabhi tanha na chorein kyun ki dunia mein zulm hamesha se hi kaim hai, per zulm kerne wala kabhi kaim nahin rehta, ek na ek din to usay apnay buoy huay ka katna parta hai..
Hamein apnay naik amalo se Khuda ko Raazi rakhna chaiye aur sath hi sath Rab-ul-Kareem se Amun ki Dua mangni chaiye, taaki Rab-ul-Kareem hamein apnay Hifz-o-Amaan mein rakhein aur in insaniyat ki dushmano se hamein bacha lein Ameen Sum Ameen.
Wednesday, July 28, 2010
Social Networking Websites
IT Education » Urdu Articles
Social Networking Websites Saturday, April 17, 2010
ہیکرز کس طرح کام کرتے ہیں
ہیکرز کس طرح کام کرتے ہیں
انٹرنیٹ سیکیورٹی کے مسائل کی نوعیت ہو سکتی ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ
بظاہر کسی عام اور بے ضرر سی ای میل کے ساتھ آنے والی کوئی اٹیچ منٹ ایک
کلک کے ساتھ ہی متحرک ہوکر کمپیوٹر پر حملہ کردیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں
یا تو کمپیوٹر میں کوئی پیچیدہ وائرس داخل ہوکر اس کے اندرونی سسٹم کو
نقصان پہنچاتا ہے یا پھر اس کے ذریعے کمپیوٹر میں موجودمعلومات چوری کرنے
کی کوشش کی جاتی ہے۔
ای میل ایسا ایک عام ذریعہ ہے جس کی مدد سےہیکر پرسنل کمپیوٹرز کا
کنٹرول حاصل کرتے ہیں۔
وائرس یا Malicious سافٹ ویر کی مدد سے ہیکرز ایک پرسنل کمپیوٹر کو بڑے
روبوٹ نیٹ ورک یا بوٹ نیٹ کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ جسے بعد میں ریموٹ کنٹرول
کے ذریعے بڑے حملے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
رینڈی وایکرز ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی کی کمپیوٹر ایمرجنسی ریڈی
نس ٹیم یا CERT کے ایکٹنگ ڈائریکٹر ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بہت سے گھریلو
کمپیوٹرز پر مناسب یا تازہ ترین سیکیورٹی سافٹ ویر نہیں ہوتے۔
وہ کہتے ہیں کہ ہم اچھے لوگوں کو جانتے ہیں اور مثلاً سمتھ کوئی بری
عورت نہیں ہیں۔ان کا کمپوٹر اسی وقت ہیک ہو گیا تھا اور اب وہ بوٹ نیٹ کے
ذومبیز میں سے ایک ہے۔ وہ کمپیوٹر ایک ہاٹ پوانٹ ہے بن چکاہے کہ جسے کوئی
دوسرا شخص ریموٹ کے ذریعے استعمال کر رہا ہے۔
کمپیوٹر کے ماہرین کو یاد رکھنا چاہیے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی
کرتی ہے۔ ہیکرز اس کو توڑے کے طریقے بھی ڈھونڈھ لیتے ہیں۔ اس لیے سافٹ ویر
اپ ڈیٹس نہایت اہم ہیں۔ چاہے وہ گھر کے کمپیوٹرز ہوں حکومتی یا کارپوریٹ
کمپیوٹرز ہوں۔
وایکرز کہتے ہیں کہ جیسے شروع میں گاڑیوں میں عام حفاظتی انتظامات
نہیں ہوتے تھے، اسی طرح بہت سے ادارے سائبر سیکیورٹی اسی وقت شامل کرتے
ہیں جب انہیں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ دنیا کی سب سے پہلی تیار ہونے والی گاڑی کو
دیکھیں تو اس میں نہ تو سیٹ بیلٹس تھیں نہ ہی اس میں ونڈ شیلڈ تھی۔ آپ کسی
چیز کو ٹکڑ مارا دیں تو۔۔۔۔۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہم نے کیاکچھ تبدیلیاں
کی ہیں ۔ہم نے ماضی میں جو سیکھا ہے اس کی بنیاد پر مستقبل کی توقع کرنا
سیکھی ہے۔
سٹیو لوکاسک نیشنل سیکیورٹی امور کے ماہر ہیں اور سائبرحملوں کا جائزہ
لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کسی کمپیوٹر سسٹم میں ہیکرز کے داخل ہوجانے کے
بعد وہ کیا کچھ کرسکتے ہیں، آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
وہ کہتے ہیں کہ سائبر حموں کا مقصد چیزوں کو درہم برہم کرنا ہے۔یہ اس
سے ذرا مختلف ہے جس کے بارے میں لوگ فکر مند ہیں۔ لیکن اگر آپ ایک ملک کو
نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تو آپ کو چیزیں ایسے طریقے سے خراب کرنا ہوں گی کہ
انہیں ٹھیک کرنے میں زیادہ وقت لگے۔
2007 میں امریکی حکومت نے ایک ویڈیو کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی کہ
ایسا حملہ کتنا تباہ کن ہو سکتا ہے۔پہلے بڑی ٹربائنوں سے سفید دھواں خارج
ہوتا ہے ۔ اور پھر حتی کہ پوراسسٹم مفلوج ہوجاتا ہے۔لوکاسک کہتے ہیں کہ اس
جیسا ایک حملہ شاید بڑا مسئلہ نہ ہو، مگر بہت سےحملے بڑے پیمانے پر تباہی
پھیلا سکتے ہیں۔
لوکاسک کہتے ہیں کہ ضروری انفراسٹرکچر کو بچانے کی حکمتِ عملی کی تیاری
میں توانائی اور ابلاغ کے ذرائع سب سے اہم ہیں۔ اور یہ بھی ذہن میں رہنا
چاہیے کہ سائبر خطروں سے نمٹنے کے لیے کوئی ایک حل نہیں ہے۔
ماہرین کے خیال میں جیت کا مطلب ہے کہ ہم ایسے کسی بھی حملے سے نمٹنے
کے لیے تیار ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سائبر جرائم کا مقابلہ ایک مسلسل جنگ ہے
جو کبھی ختم نہیں ہو گی۔
KeyWord:
Hacking Guide hacked free for hackers Wireless Hacking The Hacker's Hacker Ko Pakarny how to hack a Pc Hack Windows XP WiFi Hack 2010 Useful hacking Mobile Hacking Best Hacking Tools Email Password Hacking articles Hack Facebook Hacking Exposed Remember hacking
Labels:
hacker,
hacking,
Urdu Articles
Asia, Usa, Pakistan, India
Asia
Wednesday, January 27, 2010
کائنات کی 13 ارب سال پرانی تصویریں
حال ہی میں خلائی دوربین ہبل نے کائنات کی چند ایسی تصویریں زمینی مرکز کو بھیجی ہیں جن سے 12 ارب سال سے زیادہ پہلے کے اس دور کی نشاندہی ہوتی ہے جب کائنات اپنے ارتقائی مراحل سے گذر رہی تھی۔ ان رنگین تصویروں میں کائنات کے ابتدائی دور کی ہزاروں کہکشاؤں کے عکس موجود ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ہبل سے اتاری جانے والی ان تصویروں کے ذریعے سب سے زیادہ فاصلے پر واقع کہکشاؤں کے 13 ارب سال سے زیادہ عرصہ پہلے کے دور کو ظاہر کرتی ہیں اوران رنگین تصویروں سے یہ پتا چلتا ہے کہ اپنے ابتدائی زمانے میں کہکشائیں اپنی تکمیل کے مختلف مراحل سے کس طرح گذر رہی تھیں۔
ناسا کا کہنا ہے یہ تصویریں کائنات کے وجود میں آنے یعنی ’ بگ بینگ‘ سے 65 کروڑ سال بعد کے زمانے کو ہمارے سامنے لاتی ہیں۔ اکثر سائنس دانوں کاخیال ہے کہ یہ کائنات ایک بڑے دھماکے ’ بگ بینگ‘ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔
خلائی دور بین ہبل سے حاصل ہونے والی تصویروں میں پرانی اور چھوٹی کہکشائیں زیادہ بہتر طور پر ایک ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔یہ تصویریں کہکشاؤں کے ارتقائی دور کے مختلف مراحل سے پردہ اٹھاتی ہیں۔
ناسا کا کہنا ہے کہ گہرائی ، درستگی اور تفصیلات کے نقطہ نظر سے کائنات کی اب تک حاصل ہونے والی یہ سب سے بہتر تصویریں ہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ ہبل سے اتاری جانے والی ان تصویروں کے ذریعے سب سے زیادہ فاصلے پر واقع کہکشاؤں کے 13 ارب سال سے زیادہ عرصہ پہلے کے دور کو ظاہر کرتی ہیں اوران رنگین تصویروں سے یہ پتا چلتا ہے کہ اپنے ابتدائی زمانے میں کہکشائیں اپنی تکمیل کے مختلف مراحل سے کس طرح گذر رہی تھیں۔
ناسا کا کہنا ہے یہ تصویریں کائنات کے وجود میں آنے یعنی ’ بگ بینگ‘ سے 65 کروڑ سال بعد کے زمانے کو ہمارے سامنے لاتی ہیں۔ اکثر سائنس دانوں کاخیال ہے کہ یہ کائنات ایک بڑے دھماکے ’ بگ بینگ‘ کے نتیجے میں وجود میں آئی تھی۔
خلائی دور بین ہبل سے حاصل ہونے والی تصویروں میں پرانی اور چھوٹی کہکشائیں زیادہ بہتر طور پر ایک ساتھ دکھائی دے رہی ہیں۔یہ تصویریں کہکشاؤں کے ارتقائی دور کے مختلف مراحل سے پردہ اٹھاتی ہیں۔
ناسا کا کہنا ہے کہ گہرائی ، درستگی اور تفصیلات کے نقطہ نظر سے کائنات کی اب تک حاصل ہونے والی یہ سب سے بہتر تصویریں ہیں۔
ہبل دور بین ناسااور یورپیئن سپیس ایجنسی کا ایک مشترکہ پراجیکٹ ہے۔
اس سال کون سی مصنوعات نہیں خریدنی چاہیئں 2010
یکم جنوری سے شروع ہونے والا 21 ویں صدی کا دوسرا عشرہ پچھلی دہائی سے اس لحاظ سے مختلف ہوگا کہ ہم اس وقت جو سائنسی مصنوعات اور آلات اپنی روزمرہ زندگی میں استعمال کررہے ہیں، وہ یا تو ہماری زندگیوں سے خارج ہوجائیں گے یا ان کا استعمال بہت ہی کم رہ جائے گا۔ جیسے 21 ویں صدی کے آغاز پر ڈائل اپ انٹرنیٹ کنکشن انتہائی ترقی یافتہ سائنسی دریافت سمجھی جاتی تھی لیکن صرف دس سال کے بعد ترقی یافتہ ممالک زیادہ تر براڈ بینڈ ہائی سپیڈ انٹرنیٹ یا فائیوز پر منتقل ہوچکے ہیں اورڈائل اپ کنکشن اب رفتہ فتہ ترقی پذیر ممالک سے بھی رخصت ہوتا جا رہا ہے۔
دس سال پہلے زیادہ تر گھر وں میں بڑے سائز کے ٹیوب ٹیلی ویژن استعمال ہوتے تھے جب کہ اب ان کی جگہ فلیٹ سکرین ٹی وی اور مانیٹرلے چکے ہیں اور مغربی ممالک کی مارکیٹوں میں اب کہیں ٹیوب ٹی وی دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح اس صدی کے آغاز پر کوئی بھی آئی پاڈ، نن ٹنڈو اور وی کے گیم سٹم کے بارے میں نہیں جانتا تھا مگر آج کم ہی ایسے بچے ہوں گے جنہیں ان الیکٹرانک کھیلوں تک رسائی نہیں ہے۔
2010ء میں ماہرین سائنسی مصنوعات کی دنیا میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سال اخباروں، کتابوں ، فلموں کی ڈی وی ڈیز کے استعمال میں مسلسل کمی جاری رہے گی اور ان کی جگہ ڈجٹلخ اخباراور کتابیں لیتی جائیں گی اور ایسے آلات عام ہوجائیں گے جن پر کتابیں اور اخبار پڑھے جاسکیں گے۔ اسی طرح لوگوں میں فلموں اور دیگر تفریحی پروگراموں کو آن لائن ڈاؤن لوڈ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔
صارفین بڑے آلات اور مصنوعات مثلاً کاریں وغیرہ خریدتے وقت توانائی میں بچت کو اپنے سامنے رکھیں گے اور اسی طرح اپنے گھروں میں ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں گے جو زیادہ سے زیادہ توانائی بچا سکیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سال 2010ء میں کچھ چیزوں کی خریداری میں نمایاں کمی آئے گی یا ان کا استعمال تقریباً ختم ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے سال میں خریداری کرنے سے پہلے آپ درج ذیل پہلوؤں کو اپنے سامنے رکھیں۔
لینڈلائن ٹیلی فون:
دس سال پہلے زیادہ تر گھر وں میں بڑے سائز کے ٹیوب ٹیلی ویژن استعمال ہوتے تھے جب کہ اب ان کی جگہ فلیٹ سکرین ٹی وی اور مانیٹرلے چکے ہیں اور مغربی ممالک کی مارکیٹوں میں اب کہیں ٹیوب ٹی وی دکھائی نہیں دیتے۔ اسی طرح اس صدی کے آغاز پر کوئی بھی آئی پاڈ، نن ٹنڈو اور وی کے گیم سٹم کے بارے میں نہیں جانتا تھا مگر آج کم ہی ایسے بچے ہوں گے جنہیں ان الیکٹرانک کھیلوں تک رسائی نہیں ہے۔
2010ء میں ماہرین سائنسی مصنوعات کی دنیا میں انقلابی تبدیلیوں کی توقع کررہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس سال اخباروں، کتابوں ، فلموں کی ڈی وی ڈیز کے استعمال میں مسلسل کمی جاری رہے گی اور ان کی جگہ ڈجٹلخ اخباراور کتابیں لیتی جائیں گی اور ایسے آلات عام ہوجائیں گے جن پر کتابیں اور اخبار پڑھے جاسکیں گے۔ اسی طرح لوگوں میں فلموں اور دیگر تفریحی پروگراموں کو آن لائن ڈاؤن لوڈ کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوگا۔
صارفین بڑے آلات اور مصنوعات مثلاً کاریں وغیرہ خریدتے وقت توانائی میں بچت کو اپنے سامنے رکھیں گے اور اسی طرح اپنے گھروں میں ایسی مصنوعات کو ترجیح دیں گے جو زیادہ سے زیادہ توانائی بچا سکیں۔جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ سال 2010ء میں کچھ چیزوں کی خریداری میں نمایاں کمی آئے گی یا ان کا استعمال تقریباً ختم ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے سال میں خریداری کرنے سے پہلے آپ درج ذیل پہلوؤں کو اپنے سامنے رکھیں۔
لینڈلائن ٹیلی فون:
ProhibitOnions
آج کل ہر کسی کے پاس موبائل فون ہے جس کی وجہ سے لینڈ لائن فون کی افادیت کم ہوتی جا رہی ہےماہرین کا اندازہ ہے کہ چند برسوں کے اندر اندر گھروں میں فراہم کیا جانے والا لینڈ لائن فون ، ماضی کے روٹری فون (ڈائل گھما کر نمبر ملانے والا فون) کی طرح ماضی کا قصہ بن سکتا ہے۔
بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی مرکز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2009ء کی پہلی شش ماہی کے دوران امریکہ کے ہر پانچ میں سے ایک سے زیادہ گھروں میں صرف موبائل فون تھے اور ان کے پاس کوئی لینڈ لائن فون نہیں تھا۔اور یہ تعداد 2006ء کے مقابلے میں اسی عرصے کے دوران ساڑھے دس فی صد زیادہ تھی۔ لینڈ لائن فون کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موبائل فون کے کنکشن اور ان کے ماہانہ اخراجات لینڈ لائن فون کی نسبت کہیں کم ہیں اور موبائل فون کمپنیاں مقابلتاً زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔
ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز:
جو صارفین ایک عرصے تک اپنا کمپیوٹر تبدیل نہیں کرتے اور ہزاروں گانے، ویڈیوز، فلمیں اور فوٹو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر محفوظ کرتے ہیں، انہیں وقت گذرنے کے ساتھ اپنے کمپیوٹروں کے لیے بڑی ہارڈ ڈرائیوز کی ضرورت پڑے گی۔
اس کا ایک حل ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو ہے لیکن اس کا ایک اور آسان تر متبادل موجود ہے، یعنی آن لائن بیک اپ سروسز۔ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو کے مقابلے پر ان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں ، یہ سہولت آپ کو میسر ہے۔ کاربونائٹ ڈاٹ کام، یا موزی ڈاٹ کام وغیرہ ایسی کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے صارفین کو بیک اپ ڈیٹا تک رسائی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔یہ سروسز فی الحال ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز کی خرید کی نسبت مہنگی ہیں لیکن امکان ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ یہ سستی ہوجائیں گی۔
عام موبائل فون:
بیماریوں سے بچاؤ اور کنٹرول کے امریکی مرکز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2009ء کی پہلی شش ماہی کے دوران امریکہ کے ہر پانچ میں سے ایک سے زیادہ گھروں میں صرف موبائل فون تھے اور ان کے پاس کوئی لینڈ لائن فون نہیں تھا۔اور یہ تعداد 2006ء کے مقابلے میں اسی عرصے کے دوران ساڑھے دس فی صد زیادہ تھی۔ لینڈ لائن فون کے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موبائل فون کے کنکشن اور ان کے ماہانہ اخراجات لینڈ لائن فون کی نسبت کہیں کم ہیں اور موبائل فون کمپنیاں مقابلتاً زیادہ سہولتیں فراہم کرتی ہیں۔
ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز:
جو صارفین ایک عرصے تک اپنا کمپیوٹر تبدیل نہیں کرتے اور ہزاروں گانے، ویڈیوز، فلمیں اور فوٹو کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک پر محفوظ کرتے ہیں، انہیں وقت گذرنے کے ساتھ اپنے کمپیوٹروں کے لیے بڑی ہارڈ ڈرائیوز کی ضرورت پڑے گی۔
اس کا ایک حل ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو ہے لیکن اس کا ایک اور آسان تر متبادل موجود ہے، یعنی آن لائن بیک اپ سروسز۔ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو کے مقابلے پر ان کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی ہوں ، یہ سہولت آپ کو میسر ہے۔ کاربونائٹ ڈاٹ کام، یا موزی ڈاٹ کام وغیرہ ایسی کمپنیاں ہیں جو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے صارفین کو بیک اپ ڈیٹا تک رسائی کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔یہ سروسز فی الحال ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز کی خرید کی نسبت مہنگی ہیں لیکن امکان ہے کہ وقت گذرنے کے ساتھ یہ سستی ہوجائیں گی۔
عام موبائل فون:
AP
حال ہی میں گوگل نے اپنا سمارٹ فون ’نیکسس ون‘ لانچ کیا ہے جو ایپل کے آئی فون کا مقابلہ کرتا ہےپچھلے چند برسوں کے دوران مارکیٹ میں آئی فون اور بلیک بیری سے ملتے جلتے کئی سمارٹ فون متعارف ہوئے لیکن وہ ان دو کی طرح مقبول نہیں ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ کمپنیاں اب انہی دو فونز کے استعمال میں آنے والی چیزیں بنانے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ان دنوں بلیک بیری سمارٹ فونز کی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے اور اس کے بعد آئی فون کا نمبر آتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے 2010 ء میں بھی ان کی سبقت برقرار رہے گی۔ماہرین کا خیال ہے آنے والے برسوں میں ان سمارٹ فونز کا مقابلہ گوگل کے Android اور نیکسس ون فون سے ہوسکتا ہے جن کی مقبولیت کے گراف میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
’پوائنٹ اینڈ شوٹ‘ ڈجیٹل کیمرے:
ایک عشرے پہلے تک ڈجیٹل کیمرے خال خال ہی نظر آتے تھے مگر اب وہ فلم کیمروں کو مارکیٹ سے تقریباًخارج کرچکے ہیں۔ڈجیٹل کیمروں کی نہ صرف قیمتیں نمایاں طورپر کمی ہوئی ہیں بلکہ ان کی قوت ، کارکردگی اور ان میں موجود سہولتوں میں بھی قابل ذکر اضافہ ہوا ہے جب کہ دوسری جانب ان کا حجم بہت ہی مختصر ہوگیا ہے۔ لیکن اب پروفیشنل کوالٹی کے ایس ایل آر کیمروں کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد پوائنٹ اینڈ شوٹ کیمروں کی افادیت میں کمی آ تی جا رہی ہے۔
ایس ایل آر کیمروں کی خصوصیات میں تصاویر کی اعلیٰ کوالٹی، کم روشنی میں بھی عمدہ کارکردگی، اور مختلف لینز استعمال کرنے کی صلاحیت شامل ہیں۔
ایک اور نکتہ یہ ہے کہ ہر نئے موبائل فون میں پوائنٹ اینڈ کیمرا موجود ہوتا ہے، جس کی وجہ سے الگ کیمرے کی مانگ میں کمی واقع ہو گی۔
کاغذی اخبارات اور رسائل:
گذر جانے والا سال اشاعتی صنعت کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ نیوز پیرایسوسی ایشن آف امریکہ کے مطابق 2008 ء میں امریکہ میں اخبارات کے اشتہاروں کی آمدنی میں تقریباً 18 فی صد تک کمی ہوئی ۔ جب کہ اپریل سے ستمبر 2009ء کے دوران اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 379 اخبارات کی اشاعت میں اوسطاً ساڑھے دس فی صد کمی ہوئی ۔اسی طرح جریدوں کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ 2009ء میں 360 سے زیادہ رسالے بند ہوئے۔
کاغذی اخبارات اور رسائل:
گذر جانے والا سال اشاعتی صنعت کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ نیوز پیرایسوسی ایشن آف امریکہ کے مطابق 2008 ء میں امریکہ میں اخبارات کے اشتہاروں کی آمدنی میں تقریباً 18 فی صد تک کمی ہوئی ۔ جب کہ اپریل سے ستمبر 2009ء کے دوران اس سے پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 379 اخبارات کی اشاعت میں اوسطاً ساڑھے دس فی صد کمی ہوئی ۔اسی طرح جریدوں کا حال بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں رہا۔ 2009ء میں 360 سے زیادہ رسالے بند ہوئے۔
اب بہت سے لوگ صبح کے وقت اپنے گھر اخبار منگوانے کی بجائے اب لوگ زیادہ تر آن لائن اخبار اور رسالے پڑھتے ہیں جن میں سے زیادہ تر مفت دستیاب ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے جو الیکٹرانک اخبار، رسالوں اور کتابوں کو پڑھنے کے لیے صرف ایک ہی ذریعے پر انحصار کریں۔
ڈی وی ڈی فلمیں:
اب وہ دور تقریباً ختم ہوا جب لوگ فلمیں کرائے پر لاکر اپنے گھر دیکھا کرتےتھے۔ کرائے پر فلمیں فراہم کرنے والے ایک بڑی امریکی کمپنی ’بلاک بسٹرز‘ کا کہنا ہے کہ 2010ء کے آخرتک اپنے لگ بھگ 22 فی صد اسٹور بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں اس کی آمدنی میں 2008 ء کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 20 فی صد کمی ہوئی۔
فلموں کی ڈی وی ڈیز کی قیمت اوسطاً 20 ڈالر ہے جب کہ امریکہ میں وارنر کیبل کمپنی پانچ ڈالر میں ایک فلم آپ کو اپنے گھر پر دکھانے کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔ اسی طرح ایک اور کمپنی ورائزن فائیوز کیبل سروس تقریباً چھ ڈالر مہینے کے عوض آپ کو ماہانہ لامحدود تعداد میں فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کررہی ہے۔
ڈی وی ڈی فلمیں:
اب وہ دور تقریباً ختم ہوا جب لوگ فلمیں کرائے پر لاکر اپنے گھر دیکھا کرتےتھے۔ کرائے پر فلمیں فراہم کرنے والے ایک بڑی امریکی کمپنی ’بلاک بسٹرز‘ کا کہنا ہے کہ 2010ء کے آخرتک اپنے لگ بھگ 22 فی صد اسٹور بند کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں اس کی آمدنی میں 2008 ء کی اسی سہ ماہی کے مقابلے میں 20 فی صد کمی ہوئی۔
فلموں کی ڈی وی ڈیز کی قیمت اوسطاً 20 ڈالر ہے جب کہ امریکہ میں وارنر کیبل کمپنی پانچ ڈالر میں ایک فلم آپ کو اپنے گھر پر دکھانے کی سہولت فراہم کرتی ہے ۔ اسی طرح ایک اور کمپنی ورائزن فائیوز کیبل سروس تقریباً چھ ڈالر مہینے کے عوض آپ کو ماہانہ لامحدود تعداد میں فلمیں ڈاؤن لوڈ کرنے کی سہولت فراہم کررہی ہے۔
اور ویسے بھی اب سونی بلو رے کے بعد ڈی وی ڈی کا بات بند ہونے والا ہے، اور بہت جلد ڈی وی ڈی بھی ویڈیو کیسٹ اور فلاپی ڈسک کی طرح قصہٴ پارینہ بن جائیں گی۔
سی ڈیز:
گذشتہ عشرہ سی ڈی صنعت کے لیے بدترین ثابت ہوا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اب آپ اپنی پسند کے گانے انٹرنیٹ سے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ گانے اکثر اوقات بہت کم قیمت یا پھر مفت ہی مل جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بازار جا کر سی ڈی خریدنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
یہی وجہ ہے کہ ماہرین کہتے ہیں اب سی ڈیز کا باب بند ہوچکا ہے۔امریکہ میں میوزک کی سی ڈیز فروخت کرنے والے بہت سے بڑے بڑے سٹور ، فروخت اور آمدنی میں غیر معمولی کمی کے باعث بند ہوچکے ہیں۔ 2004ء میں ’ٹاور ریکارڈ‘ نامی کمپنی دیوالیہ ہوگئی اور 2006ء تک اس کے زیادہ تر اسٹور بند ہوچکے تھے۔
نصابی کتابیں:
جب تک طالب علموں کو درحقیقت کسی بڑی کمپنی کی نئی نصابی کتاب کی ضرورت ہی نہ ہو، وہ کئی سستےمتبادل ذرائع استعمال کرسکتے ہیں۔ایک تجارتی گروپ ریٹیل ایڈورٹائزنگ اینڈ مارکیٹنگ ایسوسی ایشن کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر مائک گیٹی کہتے ہیں کہ استعمال شدہ نصابی کتابوں کی دکان پر آپ کو 70 سے 90 فی صد تک کی بچت ہوسکتی ہے۔نصابی کتابیں خریدنے کے لیے آپ سستی کتابوں کی ویب سائٹس سے مدد لے سکتے ہیں۔اسی طرح اکثر کالجوں کے بک سٹوروں پر بھی استعمال شدہ کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔
نصابی کتابوں کی خرید کا ایک اور متبادل طریقہ کتابوں کو آن لائن ڈاؤن لوڈ کرنا ہے جو کافی سستی پڑتی ہیں۔
زیادہ پٹرول استعمال کرنے والی گاڑیاں:
گذشتہ دس سال کے دوران پٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں میڈیا کی شہ سرخیوں میں موجود رہیں اور اب بھی یہ صورت حال برقرار ہے۔ انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کا خیال ہے کہ 2010 ء میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کاریں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے توانائی کی بچت کرنے والی گاڑیاں بڑے پیمانے پر بنانے کے اعلان سے صارفین کا رجحان پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں سے ہٹ سکتا ہے۔ توانائی کے امریکی محکمے کے مطابق ایندھن کی سب سے زیادہ بچت کرنے والی گاڑیوں میں ہنڈا سوک ہائی برڈ کار شامل ہے جو شہر میں ایک گیلن میں 40 میل اور ہائی ویز پر 45 میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اسی طرح ٹویوٹا کی ہائی برڈ کار ایک گیلن میں 48 / 51 میل تک کا فاصلہ طے کرتی ہے
کاریں بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے توانائی کی بچت کرنے والی گاڑیاں بڑے پیمانے پر بنانے کے اعلان سے صارفین کا رجحان پٹرول پر چلنے والی گاڑیوں سے ہٹ سکتا ہے۔ توانائی کے امریکی محکمے کے مطابق ایندھن کی سب سے زیادہ بچت کرنے والی گاڑیوں میں ہنڈا سوک ہائی برڈ کار شامل ہے جو شہر میں ایک گیلن میں 40 میل اور ہائی ویز پر 45 میل کا فاصلہ طے کرتی ہے۔ اسی طرح ٹویوٹا کی ہائی برڈ کار ایک گیلن میں 48 / 51 میل تک کا فاصلہ طے کرتی ہے
سیارچے کی زمین سے ممکنہ ٹکر سے بچاؤ کی کوششیں
کسی سیارچے کے زمین سے ٹکرانے کا خطرہ ایک عرصے سے سائنس فکشن فلموں کا موضوع بنا ہوا ہے۔ تاہم اب روس ایسے کسی خطرے کے مقابلے کے لیے ایک حقیقی منصوبے پر کام کررہا ہے۔
روس کے خلائی ادارے نے کہا ہے کہ وہ کسی بڑےسیارچے کو زمین سے ٹکرانے سے روکنے کے لیے کام کررہا ہے۔ وائس آف رشیا ریڈیو کے نشریے کے مطابق ادارے کے سربراہ انا طولی پرمینوف نے یہ اعلان بدھ کے روز کیا۔ اس بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات بتائے بغیر مسٹر پرمینوف نے کہا کہ ان کا ادارہ ’ ایپوفس‘ نامی ایک سیارچے کو تباہ کیے بغیر اس کا راستا بدلنے کی کوشش کررہا ہے۔
وائس آف رشیا نے کہا ہے کہ مسٹر پرمینوف نے امریکہ کے خلائی ادارے ناسا اور یورپ اور چین کے خلائی اداروں کے سائنس دانوں اور ماہرین کو اس پراجیکٹ میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے ۔
ناسا کے ایک سائنس دان ڈاکٹر پال کوڈاس ایک عرصے سے، زمین کے قریب واقع اجسام یا ان سیارچوں پر تحقیق کررہے ہیں جن کے بارے میں یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ وہ کبھی نہ کبھی زمین سے ٹکراسکتے ہیں۔
ان کا کہناہے کہ اگرچہ ہماری کائنات میں ایسے بہت سے سیارچے موجود ہیں جو زمین کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں تاہم ’ایپوفس ‘ کے بارے میں ناسا کا تازہ ترین اندازہ یہ ہے کہ اس کا زمین سے ٹکرانے کاامکان ڈھائی لاکھ میں سے صرف ایک ہے۔ یہ سیارچہ 2030 ء کے لگ بھگ زمین سے ٹکرا سکتا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ مزید تحقیق کے بعد انہیں توقع ہے کہ سیارچے کے ٹکرانے کا یہ امکان کم ہوکر صفر تک پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ کئی دوسرے سیارچے، جن میں سے کئی ایک ابھی تک دریافت بھی نہیں ہوئے ہیں، زمین کے لیے زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں اور ان کے بارے میں جاننے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ زمین سے کسی بڑی ٹکر کے بارے میں امکانات بہت کم ہیں لیکن ہمیں اس بارے میں یقین دہانی کے لیے ان سیارچوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اگر ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ ان میں سے کو ئی سیارچہ زمین کی طرف بڑھ رہاے تو ہم کم ازکم اس کے لیے بہت پہلے سے لوگوں کو خبردار کرسکتے ہیں اور ہم اس سیارچے کا راستا تبدیل کرنے کے لیے درکارٹیکنالوجی تیار کرسکتے ہیں۔
مسٹر کوڈاس یہ بھی کہتے ہیں کہ زمین سے کسی بھی سیارچے کی ٹکر سے دنیا بھر کے لوگ متاثر ہوں گے اور انہوں نے روس کی جانب سے ایسی کسی ٹکر سے بچنے کے طریقوں پر بین الاقوامی اشتراک سے کام کرنے کی تجویز کو سراہاہے۔
لوڈ شیڈنگ بھول جائیں، روشن وال پیپر لگائیں
ء تک روشنی خارج کرنے والے وال پیپر کا استعمال شروع ہوسکتا ہے: کاربن ٹرسٹj 2012
پاکستان اور کئی دوسرے ان ملکوں میں رہنے والوں کے لیے، جنہیں آئے روز لوڈ شیڈنگ اور بجلی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ خبر دلچسپی کاباعث ہوگی کہ سائنس دان ایک ایسا وال پیپر تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو روشنی خارج کرتا ہے۔ دیواروں پر یہ مخصوص وال پیپر لگانے کے بعد کمرے کو روشن کرنے کے لیے بجلی کے بلب، گیس کے لیمپ، لالٹین یا موم بتی وغیرہ جلانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
کاربن کے کم اخراج کی ٹیکنالوجی کے لیے کام کرنے والے برطانیہ کے ایک سرکاری ادارے’کاربن ٹرسٹ‘ کا کہناہے کہ 2012ء تک روشنی خارج کرنے والے اس وال پیپر کا استعمال شروع ہوسکتا ہے جس سے کمرے میں روشنی کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنی دینے والے وال پیپر پر ایک مخصوص کیمیائی مادہ لگایا گیا ہے۔ وال پیپر کو جب دیوار پر لگایا جاتا ہے اس سے نکلنے والی روشنی کمرے میں ہر جگہ یکسانیت کے ساتھ پھیل جاتی ہے جس سے سایہ وغیرہ بھی نہیں بنتا جیسا کہ بجلی کے عام بلب کی روشنی سے بنتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ وال پیپر پر لگے ہوئے کیمیائی مادے سے روشنی پیدا کرنے کے لیے اسے برقی رو کی ضرورت ہوگی لیکن ایسا کرنے سے بہت ہی کم بجلی صرف ہوگی یعنی تقریباً تین وولٹ، جو ایک عام بیٹری سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ معمولی برقی قوت کے باعث دیوارکو چھونے سے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوگا نہ ہی کوئی برقی جھٹکا محسوس ہوگا۔ روشنی کی مقدار کم یا زیادہ کرنے کے لیے وہ عام بٹن جنہیں ڈمر کہا جاتا ہے، استعمال کیے جاسکیں گے۔
کاربن ٹرسٹ نے روشنی فراہم کرنے والے وال پیپر کی تیاری کے لئے ’لوموکس ‘ نامی کمپنی کو ساڑھے چارلاکھ پونڈ سے زیادہ کا فنڈ دیا ہے۔ یہ کمپنی کچھ عرصے سےنامیاتی روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈز ٹیکنالوجی پر تحقیق کررہی ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ روشنی دینے والا وال پیپر، موجودہ دور کے انرجی سیونگ قمقموں سے ڈھائی گنا کم توانائی استعمال کرے گا۔ جس سے حکومت کے اس ہدف کو پورا کرنے میں مدد ملے گی جس کے تحت برطانیہ 2020ء تک ملک میں کاربن گیسوں کے اخراج میں 34 فی صد تک کمی کرنا چاہتا ہے۔ برطانیہ میں پیدا ہونے والی بجلی کا چھٹا حصہ عمارتوں کے اندورنی حصوں کو روشن کرنے کے لیے استعمال ہوتاہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روشنی دینے والے مخصوص کیمیائی مادے کو وال پیپر کی بجائے براہ راست دیواروں پر لگاکر انہیں روشن کیا جاسکتا ہے۔ اس مادے کا استعمال ٹیلی ویژن، کمپیوٹر اور موبائل فونز کی سکرینوں پر بھی کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ نئی ایجاد کا ایک اور بڑا فائدہ یہ ہے کہ ر وشنی فراہم کرنے کا پورا نظام تین سے پانچ وولٹ کی برقی قوت پر کام کرتا ہے۔ جب کہ ایک عام بلب کو روشن کرنے کے لیے پاکستان اور اکثر دوسرے ملکوں میں 220 وولٹ اور امریکہ میں110 وولٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ چونکہ وال پیپر کو بہت کم مقدار میں بجلی درکار ہوگی، اس لیے یہ ضرورت عام بیٹری یا گھر کی چھت پر شمسی توانائی کے پینل لگاکر باآسانی پوری کی جاسکے گی۔
نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنے والی کمپنی لوموکس کا کہنا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال سڑکوں پر نصب ان نشانات اور اشاروں کو روشن کرنے کے لیے کرے گی، جہاں بجلی موجود نہیں ہے۔
کمپنی کے سربراہ کین لیسی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس نئی ایجاد کو 2012ء میں فروخت کے لیے پیش کردیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کیمیائی مادے سے خارج ہونے والی روشنی سورج کی روشنی جیسی ہے جس میں قدرتی روشنی میں پائے جانے والے تمام رنگ موجود ہیں۔
اگرچہ روشنی خارج کرنے والے اورگینک ڈائیوڈ جنہیں ایل ای ڈی بھی کہاجاتا ہے، کئ برسوں سے انسان کے زیر استعمال ہیں، تاہم مسٹر لیسی کہتے ہیں کہ اپنی قیمت اور پائیداری کے باعث ان پرمزید تحقیقی کام رک گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی، ایل ای ڈی سے کہیں زیادہ سستی اور پائیدار ٹیکنالوجی ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
مسٹر لیسی کہتے ہیں کہ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ایسی سکرینیں بنانے کی راہ ہموار ہوگئی ہے جنہیں کاغذ کی طرح لپیٹا جاسکے گا۔ اور انہیں رول کی شکل میں لپیٹ کر آپ کہیں بھی لے جاسکیں گے۔
کاربن کی گیسوں کا اخراج کم کرنے سے متعلق ادارے ’ کاربن ٹرسٹ ‘ کے ڈائریکٹر مارک ولیم سن کہتے ہیں کہ کاربن گیسوں کے اخراج کی ایک بڑی وجہ روشنی کا حصول ہے۔ کیونکہ عمارتوں کو روشن رکھنے کے لیے بجلی کا ایک بڑا حصہ استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر پاور ہاؤس، کوئلے اور معدنی ایندھن سے چلتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ توانائی بچانے والی یہ ٹیکنالوجی عالمی مارکیٹ میں بہت جلد اپنے لیے جگہ بنا لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ ایجاد ماحول دوست ٹیکنالوجی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

